جس وقت عمر گوتم اور ان کے ایک ساتھی کو تبدیلی مذھب کے معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا، اسی وقت اس بات کاخدشہ ھو چلا تھا کہ یہ پیش بندی مولانا کلیم صدیقی کے لۓ ھے کیونکہ ناعاقبت اندیش یوٹیوبرس نے اپنے ذاتی فائدے کے لۓ یوٹیوب پر جس طرح سے ویڈیو اپ لوڈکۓ وہ کام دعوت و تبلیغ کے کام کے برعکس کام ھے۔ دین کے کام میں تشہیر ریا کاری کے زمرے میں آتی ھے۔ مولانا کلیم صدیقی کی کارکردگی یوٹیوب پر آنے سے موصوف فرقہ پرستوں کے نشانے پر آگۓ۔ دعوت و تبلیغ کا کام کرنے والوں کو یہ بات یاد رکھنی چاھیۓ کہ دین کا کام اطمینان اور بغیر شور شرابہ کے کیا جاتا ھے۔ دین میں متانت اور سنجیدگی ھے۔ جہاں تک کسی انسان کے اسلام قبول کرنے کا معاملہ ھے وہ تو پورا کا پورا اللہ تعالی’ کے ھاتھ میں ھے جبکہ یہ معاملہ کسی نبی کے ھاتھوں میں بھی نہیں تھا الّا یہ کہ نبی نے کسی کے ایمان میں داخل ھونے کی دعا کی ھو اور اللہ تعالی’ نے اس کو قبول کرلیا ھو۔ اگر ھم یہ سمجھیں کہ ھمارے تمھارے کہنے سے یا کسی نبی کے کہنے سے کوئی ایمان قبول کرتا ھے تو یہ سوچ غلط ھے۔ اگر ایسا ھوتا تو حضرت نوح علیہ السلام کی لگ بھگ ساڑھے نو سو سال کی محنت سے ھزاروں/لاکھوں(اس وقت لوگوں کی جو بھی تعداد رھی ھوگی) میں سے صرف اسّی لوگوں کی بجاۓ تمام لوگ ایمان میں داخل ھو گۓ ھوتے مگر ایسا نہیں ھوا کیونکہ ھوا وہ جو اللہ تعالی’ کو منظور تھا۔ اسی طرح جو اور جتنے لوگ بھی اسلام قبول کۓ ہیں ان کے بارے میں یہ کہنا کہ مولانا کلیم صدیقی کی وجہ وہ لوگ مسلمان ھوۓ ہیں غلط ھے۔ یہ ایک حقیقت ھے اور اس حقیقت کو عدالت کے سامنے رکھنا چاھیۓ۔ ھم کسی کو کوئی بات کہیں اور وہ مان لے تو یہ ھمارے کہنے سے زیادہ ماننے والے کی مرضی پر منحصر ھے۔ بہر حال اس معاملے میں پوری قوت کے ساتھ عدالت میں لڑا جاۓ اور دوسری طرف تمام ھی مسلمان اللہ تعالی’ کی بارگاہ میں ھر وقت مولانا موصوف اور دیگر تمام ھی بے گناہ مسلمان قیدیوں کے لۓ جو پوری دنیا کی جیلوں میں بند ہیں ان سب کی باعزت رھائی کے لۓ دعا کرتے رہیں۔ حق جیتے گا اور باطل ھارے گا، باطل ھارنے کے لۓ ھی ھے۔ انشاءاللہ۔